Ar-Ra'd • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ أَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ ۗ وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلْ سَمُّوهُمْ ۚ أَمْ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلْأَرْضِ أَم بِظَٰهِرٍۢ مِّنَ ٱلْقَوْلِ ۗ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا۟ عَنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍۢ ﴾
“IS, THEN, HE who has every living being in His almighty care, [dealing with each] according to what it deserves -[is, then, He like anything else that exists]? And yet, they ascribe to other beings a share in God's divinity! Say: "Give them any name [you please]: but do you [really think that you could] inform Him of anything on earth that He does not know-or [do you] but play with words?, Nay, goodly seems their false imagery to those who are bent on denying the truth, and so they are turned away from the [right] path: and he whom God lets go astray can never find any guide.”
مطالعہ بتاتاہے کہ کائنات میں ریکارڈنگ کا نظام ہے۔ آدمی جو کچھ بولتاہے یا جو کچھ کرتا ہے، وہ کائناتی انتظام کے تحت فوراً ریکارڈ ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کائنات کا خدا کسی ایسی ہستی ہی کو مانا جاسکتا ہے جس کے اندر ’’سننے‘‘ اور ’’دیکھنے ‘‘ کی طاقت ہو۔ مگر انسانوں نے اب تک جتنے شرکا ء فرض كيے ہیں، سب کے سب وہ ہیں جن کے اندر نہ سننے کی طاقت ہے اور نہ دیکھنے کی۔ ایسی حالت میں کیوں کر وہ موجودہ کائنات جیسی دنیا کے خالق ومالک ہوسکتے ہیں۔ جو خود نہ سنے وہ اپنی مخلوقات میں سننے کا مادہ کس طرح پیداکرے گا جو خود نہ دیکھے وہ دوسری چیزوں کو دیکھنے کے قابل کیسے بنائے گا۔ اسی طرح کائنات میں اتنی زیادہ وحدت ہے کہ وہ کسی طرح شرک کو قبول نہیں کرتی۔ جس شریک کا بھی نام لیاجائے، کائنات پورے وجود کے ساتھ اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردے گی۔ منکرین کے لیے ان کا مکر خوش نما بنا دیاگیا ہے ،یہاں مکر سے مراد ان کا ’’قول‘‘ ہے جس کا ذکر اسی آیت میں اوپر موجود ہے۔ جب بھی آدمی حق کا انکار کرتاہے تو اس کا ذہن اپنے انکار کو جائزثابت کرنے کے لیے کوئی قول گھڑ لیتا ہے۔ یہ قول اگر چہ بے حقیقت الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جو لوگ حق کے معاملہ میں زیادہ سنجیدہ نہ ہوںوہ کچھ نہ کچھ الفاظ بول کر سمجھ لیتے ہیں کہ انھوںنے اپنے انکار واعراض کو حق بجانب ثابت کردیا ہے۔ خواہ ان کے بولے ہوئے الفاظ ان کے اپنے ذہن کے باہر کوئی قیمت نہ رکھتے ہوں۔ اس قسم کے جھوٹے الفاظ کسی آدمی کو صرف موجودہ دنیا میں سہارا دے سکتے ہیں۔ آخرت میں جب ہر چیز کی حقیقت کھلے گی تو یہ خوشنما الفاظ اتنے بے وزن ہوجائیں گے کہ آدمی ان کو دہراتے ہوئے بھی شرم محسوس کرے گا۔