Ar-Ra'd • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ۞ مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ أُكُلُهَا دَآئِمٌۭ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ ۖ وَّعُقْبَى ٱلْكَٰفِرِينَ ٱلنَّارُ ﴾
“THE PARABLE of the paradise promised to those who are conscious of God [is that of a garden] through which running waters flow: [but, unlike an earthly garden,] its fruits will be everlasting, and [so will be] its shade. Such will be the destiny of those who remain conscious of God-just as the destiny of those who deny the truth will be the fire.”
جنت کی قیمت تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ کی عظمت کا اتنا شدید احساس جو ڈربن کر آدمی کے دل میں سما جائے۔ جو لوگ دنیا میں خدا سے ڈریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کے اُن گھروں میں بسائے جائیں گے جہاں آدمی کے لیے کسی قسم کا ڈر نہ ہوگا۔ جس کے چاروں طرف سرسبز باغات ان کی عظمت وشان کو دو چند کررہے ہوں گے۔ اس کے برعکس، حال ان لوگوں کا ہے جو دنیا میں بے خوف بن کر رہے۔ وہ آخرت میں اپنے آپ کو آگ کی دنیا میں پائیں گے۔