Ar-Ra'd • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ ٱلْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُۥ ۚ قُلْ إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشْرِكَ بِهِۦٓ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُوا۟ وَإِلَيْهِ مَـَٔابِ ﴾
“Hence, they unto whom We have vouchsafed this revelation rejoice at all that has been bestowed upon thee [O Prophet] from on high; but among the followers of other creeds there are such as deny the validity of some of it. Say [unto them, O Prophet]: "I have only been bidden to worship God, and not to ascribe divine. powers to aught beside Him: unto Him do I call [all mankind], and He is my goal!"”
قرآن آیا تو یہود ونصاریٰ میں دو گروہ ہوگئے۔ ان میں جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی سچی تعلیمات پر قائم تھے، انھوںنے قرآن کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور خوش ہوکر اس کو قبول کرلیا۔ مگر جو لوگ عصبیت اور گروہ بندی کو دین سمجھے ہوئے تھے وہ اپنے مانوس دائرہ سے باہر آنے والی سچائی کو پہچان نہ سکے اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے اللہ سے ان کی بے خوفی نے دعوتِ حق کی مخالفت میں بھی ان کو بے خوف بنا دیا۔ جو شخص عصبیت اور گروہ بندی کی بنا پر سچائی کا مخالف بنتا ہے وہ دراصل خدا کو چھوڑ کر اپنی خواہشات پر چلتا ہے۔ ایسے لوگوں کی رعایت سے دعوت حق میں کوئی تبدیلی کرنا داعی کے لیے جائز نہیں۔ داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے بے لاگ حق پر پوری طرح جما رہے۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اس کو استقامت کا ثبوت دینا ہے، نہ کہ مصالحت کا ۔ آدمی کے سامنے اس کی قابل فہم زبان میں حق کا علم آجائے۔ اس کے باوجود وہ خواہشات کا پیرو بنا رہے تو یہ بے حد سنگین بات ہے۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جو آدمی کو خدا کی مدد سے یکسر محروم کردیتاہے۔