Ibrahim • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌ ﴾
“But those who shall have attained to faith and done righteous deeds will be brought into gardens through which running waters flow, therein to abide by their Sustainer's leave, and will be welcomed with the greeting, "Peace!"”
ملاقات کے وقت السلام علیکم کہنا محض ایک معاشرتی رسم نہیں۔ یہ قلبی تعلق کی ایک ظاہری علامت ہے۔ دنیا کا السلام علیکم بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی ہے اور آخرت کا السلام علیکم بھی مزید اضافہ کے ساتھ یہی۔ جو لوگ دنیامیں اس طرح رہے کہ ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی کے جذبات بھرے ہوئے تھے۔ جو شکایتوں کو نظر انداز کرکے ایک دوسرے سے محبت کرنا جانتے تھے۔ جو دوسرے کے لیے ہمیشہ وہ الفاظ بولتے تھے جس میں اس کا اعتراف اور احترام شامل ہو۔ جو دوسرے کے لیے وہی چیز پسند کرتے تھے جو اپنےلیے پسند کرتے تھے۔ جن کے سینے میں دوسروں کے لیے سلامتی کے چشمے ابلتے تھے اور جن کی آنکھیں دوسرے کی بھلائی کو دیکھ كر ٹھنڈی ہوتی تھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی نفیس دنیا میں بسائے جانے کے اہل ٹھہریں گے۔ دنیا میں بھی ان کا یہ حال تھا کہ جب وہ اپنے بھائیوں سے ملتے تو ان کے لیے ان کی محبت اور خیر خواہی ’’السلام علیکم‘‘ کی صور ت میں ٹپکتی تھی۔ آخرت میں یہی چیز اور زیادہ لطیف اور خالص بن کر اپنے جنتی پڑوسیوں کے بارے میں ان کی زبانوں سے نکلے گی۔