WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 43 من سورة سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Ibrahim • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌۭ ﴾

“the while they will be running confusedly to and fro, with their heads upraised [in supplication], unable to look away from what they shall behold, and their hearts an abysmal void.”

📝 التفسير:

آدمی کے سامنے حق آتاہے تو وہ اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ وہ اس کے مقابلہ میں ایسی بے خوفی کا مظاہره کرتاہے جیسے کہ اس سے زیادہ بہادر دنیا میں اور کوئی نہیں۔ مگر یہی حق جو موجودہ دنیا میں ’’داعی‘‘ کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے وہ آخرت میں ’’خدا‘‘ کی سطح پر ظاہر ہوگا۔ اس دن ایسے لوگوں کی ساری بہادری جاتی رہے گی۔ آخرت کا ہولناک منظر دیکھ کر ان کا یہ حال ہوگا کہ جب ان کی نگاہیں اٹھیں گی تو وہ اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی، پلک جھپکنے کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔ وہ سر اٹھائے ہوئے تیزی سے میدان حشر کی طرف بھاگ رہے ہوں گے۔ اور ان کے دل دہشت کی وجہ سے اڑ رہے ہوں گے۔