https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 95 من سورة سُورَةُ النَّحۡلِ

An-Nahl • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًا ۚ إِنَّمَا عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾

“Hence, do not barter away your bond with God for a trifling gain! Verily, that which is with God is by far the best for you, if you but knew it:”

📝 التفسير:

قسم کھا کر معاہدہ کرنا پختہ معاہدہ کی آخری صورت ہے۔ اس اعتبار سے اس آیت کے تحت تمام معاہدے آجاتے ہیں۔ اگر مسلمان ایسا کریں کہ وہ دوسروں سے معاہداتی معاملے کریں اور پھر کسی حقیقی سبب کے بغیر محض مفاد کی خاطر ان کو توڑ دیں تو اس سے ماحول میں مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ ختم ہوجائے گی۔ اور نتیجۃً ان کا یہ عمل لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب منکر اسلام دیکھے گا کہ مسلمان نے معاہدہ کیا اور پھر اس نے اس سے بے وفائی کی تو اس کو دین اسلام پر اعتماد باقی نہ رہے گا اور اس کی وجہ سے وہ خدا کے دین میں داخل ہونے سے رک جائے گا (لِأَنَّ الْكَافِرَ إِذَا رَأَى أَنَّ الْمُؤْمِنَ قَدْ عَاهَدَهُ ثُمَّ غَدَرَ بِهِ، لَمْ يَبْقَ لَهُ وُثُوقٌ بِالدِّينِ، فَانْصَدَّ بِسَبَبِهِ عَنِ الدُّخُولِ فِي الْإِسْلَامِ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 600۔ عہد کو غیر شرعی طورپر توڑنے کا واقعہ ہمیشہ اس لیے پیش آتا ہے کہ آدمی کو یہ نظر آنے لگتا ہے کہ اگر وہ معاہدہ کو توڑ دے تو اس کو فلاں دنیوی فائدہ حاصل ہوجائے گا۔ مگر مومن کی نظر آخرت پسندانہ نظر ہوتی ہے۔ جب بھی اس کا نفس اس قسم کی تحریک کرتاہے تو وہ اپنے نفس کو یہ کہہ کر دبا دیتا ہے کہ معاہدہ توڑنے میں اگر دنیا کا فائدہ ہے تو معاہدہ نہ توڑنے میں آخرت کا فائدہ۔ اور دنیا کے فائدہ کے مقابلہ میں آخرت کا فائدہ یقیناً زیادہ بڑا ہے۔