Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّىٓ إِذًۭا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ ٱلْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ قَتُورًۭا ﴾
“Say: "If you were to own' all the treasure-houses of my Sustainer's bounty, lo! you would still try to hold on [to them] tightly for fear of spending [too much]: for man has always been avaricious [whereas God is limitless in His bounty].”
انسان تنگ ظرف واقع ہوا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرف کو اپنے لیے یا اپنے گروہ کے لیے جمع کرلینا چاہتا ہے۔ اگر نعمتوں کی تقسیم انسان کے ہاتھ میں ہوتی تو جن لوگوں کے پاس دولت وعظمت آگئی تھی وہی نبوت کو بھی اپنے پاس جمع کرلیتے۔ وہ اس کو دوسروں کے پاس جانے نہ دیتے۔ مگر خدا معاملات کو جوہر کے اعتبار سے دیکھتا ہے، نہ کہ گروہی تعصبات کی نظر سے۔ وہ تمام انسانوں پر نظر ڈالتا ہے۔ اور پوری نسل میں جو سب سے بہتر انسان ہوتاہے اس کو نبوت کے لیے چن لیتاہے۔ نبوت کا انتخاب اگر انسان کرنے لگیں تو یہاں بھی وہی کیفیت پیدا ہوجائے جو انسانی اداروں میں جانب داری کی وجہ سے نا اہل انسانوں کی بھیڑ کی صورت میں نظر آتی ہے۔