Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَبِٱلْحَقِّ أَنزَلْنَٰهُ وَبِٱلْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا مُبَشِّرًۭا وَنَذِيرًۭا ﴾
“AND AS a guide towards the truth have We bestowed this [revelation] from on high; with this [very] truth has it come down [unto thee, O Prophet]: for We have sent thee but as a herald of glad tidings and a warner,”
قرآن بے آمیز سچائی کا اعلان ہے۔ مگر بے آمیز سچائی ہمیشہ لوگوں کے لیے سب سے کم قابل قبول چیز ہوتی ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے داعی پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ وہ لوگوں کو ضرور منوالے۔ داعی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کامل طورپر سچائی کا اعلان کردے۔ قرآن میں مخاطب کی آخری حد تک رعایت کی گئی ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا گیا ہے۔ تاکہ جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں وہ اس کو خوب سمجھتے جائیں۔ وہ آہستہ آہستہ ان کے فکر وعمل کا جزء بنتا چلا جائے۔