WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 106 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَقُرْءَانًۭا فَرَقْنَٰهُ لِتَقْرَأَهُۥ عَلَى ٱلنَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍۢ وَنَزَّلْنَٰهُ تَنزِيلًۭا ﴾

“[bearing] a discourse which We have gradually unfolded, so that thou might read it out to mankind by stages, seeing that We have bestowed it from on high step by step, as [one] revelation.”

📝 التفسير:

قرآن بے آمیز سچائی کا اعلان ہے۔ مگر بے آمیز سچائی ہمیشہ لوگوں کے لیے سب سے کم قابل قبول چیز ہوتی ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے داعی پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ وہ لوگوں کو ضرور منوالے۔ داعی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کامل طورپر سچائی کا اعلان کردے۔ قرآن میں مخاطب کی آخری حد تک رعایت کی گئی ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا گیا ہے۔ تاکہ جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں وہ اس کو خوب سمجھتے جائیں۔ وہ آہستہ آہستہ ان کے فکر وعمل کا جزء بنتا چلا جائے۔