WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 12 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ ءَايَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَآ ءَايَةَ ٱلَّيْلِ وَجَعَلْنَآ ءَايَةَ ٱلنَّهَارِ مُبْصِرَةًۭ لِّتَبْتَغُوا۟ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍۢ فَصَّلْنَٰهُ تَفْصِيلًۭا ﴾

“And We have established the night and the day as two symbols; and thereupon We have effaced the symbol of night and set up [in its place] the light giving symbol of day, so that you might seek to obtain your Sustainer's bounty and be aware of the passing years and of the reckoning [that is bound to come]. For clearly, most clearly, have We spelt out everything!”

📝 التفسير:

رات اور دن کا نظام بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تاریکی ہو اور اس کے بعد روشنی آئے۔ خدائی نقشہ میں دونوں یکساں طورپر ضروری ہیں۔ جس طرح روشنی میں فائدے ہیں اسی طرح تاریکی میں بھی فائدے ہیں۔ دنیا میں اگر رات اور دن کافرق نہ ہو تو آدمی اپنے اوقات کی تقسیم کس طرح کرے۔ وہ اپنے کام اور آرام کا نظام کس طرح بنائے۔ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ’’تاریکی‘‘ سے گھبرائے اور صرف ’’روشنی‘‘ کا طالب بن جائے۔ کیوں کہ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جو آدمی ایسا چاہتا ہو اس كو خدا کی دنیا چھوڑ کر اپنے لیے دوسری دنیا تلاش کرنی پڑے گی۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی انسان کی سب سے بڑی كمزوري ہے۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کو تاریکی کا مرحلہ پیش نہ آئے اور فوراً ہی اس کو روشنی حاصل ہوجائے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو عجلت (جلدبازي) کہاجاتا ہے۔ عجلت دراصل خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونے کا دوسرا نام ہے۔ اور خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونا ہی تمام انسانی بربادیوں کا اصل سبب ہے۔ خدا چاہتاہے کہ انسان دنیا کی فوری لذتوں پر صبر کرے تاکہ وہ آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ مگر انسان اپنی عجلت کی وجہ سے دنیا کی وقتی لذتوں پر ٹوٹ پڑتاہے۔ وہ آگے کی طرف اپنا سفر طے نہیں کرپاتا۔ آدمی کی عاجلہ(دنيا) پسندی اس کو آخرت کی نعمتوں سے محروم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہی دنیا کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بھی حقیقی کامیابی صبر سے ملتی ہے نہ کہ جلد بازی سے۔یہود کو ان کے پیغمبر یرمیاہ نے نصيحت کی کہ تم بابل کے حکمراں کے سیاسی غلبہ کو فی الحال تسلیم کرلو اور ابتدائی مرحلہ میںاپنی کوششوں کو صرف دعوتی اور تعمیری میدان میں لگاؤ۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آئے گا جب کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے غلبہ اور اقتدار کی راہیں کھول دے۔ مگر یہود کی عجلت پسندی اس پر راضی نہیں ہوئی۔ انھوں نے چاہا کہ ’’تاریکی‘‘ کے مرحلہ سے گزرے بغیر وه ’’روشنی‘‘ کے مرحلہ میں داخل ہوجائیں۔ انھوںنے فوراً شاہ بابل کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کردی۔ چوں کہ خداکے نظام میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، ان کے حصہ میں ذلّت اور رسوائی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔