Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَإِذَآ أَرَدْنَآ أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا۟ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا ٱلْقَوْلُ فَدَمَّرْنَٰهَا تَدْمِيرًۭا ﴾
“But when [this has been done, and] it is Our will to destroy a community, We convey Our last warning to those of its people who have lost themselves entirely in the pursuit of pleasures; and [if] they [continue to] act sinfully, the sentence [of doom] passed on the community takes effect, and We break it to smithereens.”
کسی قوم کی اصلاح یا کسی قوم کے بگاڑ کا معیار اس قوم کا سربرآوردہ طبقہ ہوتاہے۔ یہی طبقہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا مالک ہوتاہے۔ یہی طبقہ اپنے وسائل کے ذریعے لوگوںپر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی طبقہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی گروہ کے اوپر قائد بننے کی قیمت ادا کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کي اصلاح پوری قوم کی اصلاح ہے اور کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کا بگاڑ پوری قوم کا بگاڑ۔ حضرت نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک کی قوموں کا جائزہ لیا جائے تو ہر ایک کی تاریخ اس عام اصول کی صحت کی تصدیق کرے گی۔ اسی عام حکم میں قوم کے ان ’’بڑوں‘‘ کا معاملہ بھی شامل ہے جو قوم کو اپنی قیادت کی شکار گاہ بناتے ہیں، اور اس طرح اس کی غلط رہنمائی کرکے اس کی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں۔ وہ قوم کو حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت کا درس دیتے ہیں۔ اس کو معانی کے بجائے الفاظ کے طلسم میں گم کرتے ہیں۔ اس کو سنجیدگی کے بجائے تخیلات کی فضا میں اڑاتے ہیں۔ وہ اس کو حقائق کا اعتراف کرنے کے بجائے خوش خیالیوں میں جینا سکھاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ قوم کو خدا کے بجائے غیر خدا کی طرف متوجہ کردیتے ہیں۔ جب کسی قوم پر اس قسم کے رہنما چھا جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے یہاں سے اس قوم کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس قسم کا ہر واقعہ خدا کی اجازت کے تحت ہوتاہے۔ اور کسی شخص یا قوم کا کوئی عمل خدا سے چھپا ہوا نہیں ہے۔