Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَمَنْ أَرَادَ ٱلْءَاخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَأُو۟لَٰٓئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًۭا ﴾
“But as for those who care for the [good of the] life to come, and strive for it as it ought to be striven for, and are [true] believers withal -they are the ones whose striving finds favour [with God]!”
موجودہ دنیا میں آدمی دو راستوں کے درمیان ہے ایک کا فائدہ نقد ملتاہے اور دوسرے کا فائدہ ادھار۔ جو شخص پہلے راستہ پر چلے اس نے عاجلہ کو پسند کیا۔ اور جو شخص دوسرے راستہ کو اختیار کرے اس نے آخرت کو پسند کیا۔ ایک طرف آدمی کے سامنے مصلحت پرستی کا طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے فوری طورپر عزت اور دولت ملتی ہے۔ دوسری طرف بے لاگ حق پرستی کا طریقہ ہے جس کا کریڈٹ آدمی کو موت کے بعد کی زندگی میں ملے گا۔ کسی سے شکایت پیدا ہوجائے تو ایک صورت یہ ہے کہ اس کے بارے میں اپنے دل کے اندر انتقام کی نفسیات پیدا کرلی جائے اور اس کے خلاف وہ سب کچھ کیا جائے جو اپنے بس میں ہے۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو معاف کردیا جائے۔ اور ا س کے لیے اچھی دعائیں کرتے ہوئے سارے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا جائے۔ اسی طرح آدمی کے پاس جو مال ہے اس کے خرچ کی ایک شکل یہ ہے کہ اس کو اپنے شوق کی تکمیل ا ور اپنی عزت کو بڑھانے کی راہوں میں لگایا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ اس کو خدا کے دین کے مدوں میں خرچ کیا جائے۔ اسی طرح تمام معاملات میں آدمی کے سامنے دو مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ ایک خواہش پرستی کا طریقہ اور دوسرا خدا پرستی کا طریقہ۔ ایک سامنے کی چیزوں کو اہمیت دینا اور دوسرا غیب کی حقیقتوں کو اہمیت دینا۔ ایک مصلحت پرستی کا انداز اور دوسرا اصول پرستی کا انداز۔ ایک بے صبری کے تحت کر گزرنا اور دوسرا صبر کے ساتھ وہ کرنا جو کرنا چاہیے۔ پہلے طریقہ میں وقتی فائدہ ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی محرومی۔ دوسرے طریقہ میں وقتی نقصان ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی عزّت اور کامیابی۔