WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 23 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ ۞ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّۢ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًۭا كَرِيمًۭا ﴾

“for thy Sustainer has ordained that you shall worship none but Him. And do good unto [thy] parents. Should one of them, or both, attain to old age in thy care, never say "Ugh" to them or scold them, but [always] speak unto them with reverent speech,”

📝 التفسير:

خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔ اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔ یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔