Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًۭا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِۦ سُلْطَٰنًۭا فَلَا يُسْرِف فِّى ٱلْقَتْلِ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ مَنصُورًۭا ﴾
“And do not take any human being's life -[the life] which God has willed to be, sacred-otherwise than in [the pursuit of] justice. Hence, if anyone has been slain wrongfully, We have empowered the defender of his rights [to exact a just retribution]; but even so, let him not exceed the bounds of equity in [retributive] killing. [And as for him who has been slain wrongfully -] behold, he is indeed succoured [by God]!”
حق شرعی کے بغیر کسی کو قتل کرنا سراسر حرام ہے۔ جو شخص شرعی جواز کے بغیر قتل کیا جائے وہ مظلومانہ قتل ہوا۔ ایسی حالت میں مقتول کے اولیاء کو قاتل کے اوپر پورا اختیا رہے۔ وہ چاہیں تو اس سے قصا ص لیں۔ چاہیں تو خوں بہا لے کر چھوڑ دیں۔ اور چاہیں تو سرے سے معاف کردیں۔ اسلامی قانون کے مطابق قتل کے معاملہ میں اصل مدعی مقتول کے اولیاء ہیں، نہ کہ حکومت۔ حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ مقتول کے اولیاء کی مرضی کو نافذ کرنے میں ان کی مدد کرے۔ قتل اتنا بھیانک جرم ہے کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ساری دنیا کا چلا جانا اللہ کے نزدیک اس سے اہون ہے کہ ایک مومن کو ناحق قتل کردیا جائے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ)سنن النسائی، حدیث نمبر 3987۔ اس کے باوجود مقتول کے اولیاء کو یہ حق نہیں کہ وہ قاتل سے بدلہ لیتے ہوئے اس کے ساتھ زیادتی کریں۔ مثلاً وہ قاتل کا مثلہ کریں یا قاتل کے بدلے اس کے کسی ساتھی کو قتل کردیں، وغیرہ۔ مقتول کے ورثاء اگر بدلہ لینے میں زیادتی کریں تو یہاں حکومت اسی طرح ان کی مزاحم ہوجائے گی جس طرح وہ ان کے حق قصاص کے معاملہ میں ان کی مددگار ہوئی تھی۔ اس سے اسلامی شریعت کی یہ روح معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی زیادہ مظلوم ہو، اگر وہ ظالم سے بدلہ لینا چاہتا ہے تو وہ صرف ظلم کے بقدر بدلہ لے سکتاہے۔ اس سے زیادہ کوئی کارروائی کرنے کی اجازت اسے ہر گز حاصل نہیں۔