Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِمَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ ٱلنَّبِيِّۦنَ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۖ وَءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ زَبُورًۭا ﴾
“seeing that thy Sustainer is fully aware of [what is in the minds of] all beings that are in the heavens and on earth. But, indeed, We did endow some of the prophets more highly than others -just as We bestowed upon David a book of divine wisdom [in token of Our grace]”
ایک شخص سچے دین کی دعوت دے اور دوسرا شخص اس کو نہ مانے تو داعی کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ شخص کیسا ہے کہ کھلی ہوئی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کبھی بات اور آگے بڑھتی ہے اور وہ اعلان کربیٹھتا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ اس قسم کا کلام داعی کے لیے کسی حال میں جائز نہیں۔ ایک ہے حق کا پیغام پہنچانا۔ اور ایک ہے پیغام کے رد عمل کے مطابق ہر ایک کو اس کا بدلہ دینا۔ پہلا کام داعی کا ہے اور دوسرا کام خدا کا۔ داعی کو کبھی یہ غلطی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ سے گزر کر خدا کے دائرہ میںداخل ہوجائے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اپنے اپنے مقتداؤں کی فضیلت کی بحث اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنے پیشوا کو دوسرے سے اعلیٰ اور افضل ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بحث اصول کے دائرہ میں رہنی چاہیے وہ شخصیت کے دائرہ میں چلی جاتی ہے اور تعصبات کو جگا کر قبول حق کی راہ میں مزید رکاوٹ کھڑی کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں کہاگیا کہ یہ خدا کا معاملہ ہے کہ وہ کس کو کیا درجہ دیتاہے۔ تم کو چاہیے کہ اس قسم کی بحث سے اعراض کرتے ہوئے اصل پیغام کو پہنچانے میں لگے رہو۔