WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 56 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ﴾

“SAY: "Call upon those [beings] whom you imagine [to be endowed with divine powers] beside Him and [you will find that] they have it not in their power to remove any affliction from you, or to shift it [elsewhere]. "”

📝 التفسير:

انسان جن ہستیوں کو اللہ کے سوا اپنا معبود بناتاہے وہ سب وہی ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں۔ مثلاً بزرگ یا فرشتے وغیرہ۔ غور سے دیکھيے تو یہ معبودیت سراسر یک طرفہ ہوتی ہے۔ ان ہستیوں نے خود اپنے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیاہے۔ یہ صرف دوسرے لوگ ہیں، جو ان کو معبود فرض کرکے ان کی تقدیس و تعظیم میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر کسی کو حاضر سے غائب تک دیکھنے کی نظر حاصل ہو اور وہ پوری صورت حال پر نظر کرے تو وہ عجیب مضحکہ خیز منظر دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ انسان کچھ ہستیوں کو بطور خود معبود کا درجہ دے کر ان کی پرستش کر رہا ہے۔ اور ان سے مرادیں مانگ رہا ہے جب کہ عین اسی وقت خود ان ہستیوں کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کے احساس سے سہمے ہوئے ہیںاور اس کی رحمت وقربت کی تلاش میں ہمہ تن سرگرم ہیں۔