WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 59 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِٱلْءَايَٰتِ إِلَّآ أَن كَذَّبَ بِهَا ٱلْأَوَّلُونَ ۚ وَءَاتَيْنَا ثَمُودَ ٱلنَّاقَةَ مُبْصِرَةًۭ فَظَلَمُوا۟ بِهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِٱلْءَايَٰتِ إِلَّا تَخْوِيفًۭا ﴾

“And nothing has prevented Us from sending [this message, like the earlier ones,] with miraculous signs [in its wake], save [Our knowledge] that the people of olden times [only too often] gave the lie to them: thus, We provided for [the tribe of] Thamud the she-camel as a light-giving portent, and they sinned against it. And never did We send those signs for any other purpose than to convey a warning.”

📝 التفسير:

پیغمبروں کے ساتھ جو غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کی عمومی نصرت کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کو تائید کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو مشرکین کے مطالبہ کے طورپر ظاہر کيے جاتے ہیں۔ ان کا اصطلاحی نام معجزہ ہے۔ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ساتھ تائید الٰہی کے بے شمار واقعات پیش آئے۔ مگر جہاں تک فرمائشی نشانی (معجزہ) کا تعلق ہے آپ کے لیے ان کو بھیجنا موقوف کردیاگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چیز کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ جو لوگ غیر معمولی نشانی کا مطالبہ کریں، ان کے اوپر غیر معمولی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ چنانچہ خدا کا یہ قانون ہے کہ جو لوگ غیر معمولی نشانی (معجزہ) دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لائیں ان کو سخت عذاب بھیج کر نیست و نابود کردیا جائے۔ اب چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہونے والا تھا اس لیے آپ کی مخاطب قوم کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیوں کہ بالکلیہ تباہی کی صورت میں قوم مٹ جاتی۔ پھر پیغمبر کے بعد پیغمبر کی نمائندگی کے لیے دنیا میں کون باقی رہتا۔ پیغمبر آخر الزماں کے مخاطبین کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان کو محسوس معجزات نہیں دکھائے گئے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ ان کا بھی وہی سخت انجام ہو جو اس سے پہلے قوم ثمود کا ہوا۔