Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِٱلنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا ٱلرُّءْيَا ٱلَّتِىٓ أَرَيْنَٰكَ إِلَّا فِتْنَةًۭ لِّلنَّاسِ وَٱلشَّجَرَةَ ٱلْمَلْعُونَةَ فِى ٱلْقُرْءَانِ ۚ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَٰنًۭا كَبِيرًۭا ﴾
“And lo! We said unto thee, [O Prophet:] "Behold, thy Sustainer encompasses all mankind [within His knowledge and might]: and so We have ordained that the vision which We have shown thee -as also the tree [of hell,] cursed in this Qur'an - shall be but a trial for men. Now [by Our mentioning hell] We convey a warning to them: but [if they are bent on denying the truth,] this [warning] only increases their gross, overweening arrogance."”
لوگ خدا کے داعی سے اکثر اپنے تجویز کردہ معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ کھلے ذہن کے ساتھ دیکھیں تو داعی کی خصوصی نصرت کی شکل میں وہ معجزہ انھیں دکھایا جاچکا ہوتاہے، جس کو وہ داعي کی صداقت کو جانچنے کے لیے دیکھنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین آپ سے حسی معجزات مانگ رہے تھے۔ فرمایا کہ کیا یہ معجزہ تمھاری آنکھ کھولنے کے لیے کافی نہیں کہ دعوت کے ابتدائی دور میں جب اس کی بظاہر کوئی طاقت نہیں تھی، یہ اعلان کیاگیا کہ خدا تمھیں گھیرے میں لیے ہوئے ہے (وَاللَّهُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُحِيطٌ)۔ یہ پیشین گوئی قبائلِ عرب میں اسلام کی توسیع سے پوری ہوگئی۔ پھر اس کی تکمیل بدر کی فتح اور صلح حدیبیہ کے بعد مکہ کی فتح کی صورت میں ہوئی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی صبح کو جب یہ اعلان کیا کہ آج رات میںبیت الحرام سے بیت المقدس تک گیا تو لوگوں کو یقین نہیں آیا۔ اس کے بعد ایسے افراد بلائے گئے جو بیت المقدس کو دیکھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے آپ نے بیت المقدس کی عمارت کی پوری تفصیل بیان کردی۔ مگر ان واقعات کو لوگوں نے مذاق میں ٹال دیا حالاں کہ وہ آپ کی صداقت کا معجزاتی ثبوت تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ حسی معجزہ دکھانے کا نہیں ہے بلکہ دعوت پر سنجیدہ غور وفکر کا ہے۔ اگر لوگ دعوت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ہرچیز کو مذاق اور استہزاء کی نذر کردیں گے۔ خواہ وہ بات بذات خود کتنی ہی قابل لحاظ کیوں نہ ہو۔ قرآن میں جب ڈرایا گیا کہ جہنم میں زقوم کا کھانا ہوگا (الصافات، 37:62 ) تو روایات میں آتا ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ ہمارے لیے کھجور اور مکھن لے آؤ جب وہ لایا گیا تو وہ دونوں کو ملا کر کھانے لگا اور کہا تم لوگ بھی کھاؤ یہی زقوم ہے (قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَاتُوا لَنَا تَمْرًا وَزُبْدًا، وَجَعَلَ يَأْكُلُ هَذَا بِهَذَا وَيَقُولُ تَزَقَّموا، فَلَا نَعْلَمُ الزَّقُّومَ غَيْرَ هَذَا( تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 92 ۔ اسی طرح قرآن میں شجرۂ ملعونہ (بنی اسرائیل، 17:60 ) کا ذکر ہےجو جہنمیوںکا کھانا ہوگا۔ جب قرآن میں یہ آیت اتری تو قریش کے ایک سردار نے کہا ابو کبشہ کے لڑکے کو دیکھو۔ وہ ہم سے ایسی آگ کا وعدہ کرتاہے جو پتھر تک کو جلا دے گی۔ پھر اس کا گمان ہے کہ اس کے اندر ایک درخت اگتا ہے حا لانکہ معلوم ہے کہ آگ جلانے والی چیز ہے (إِنَّ ابْنَ أَبِي كَبْشَةَ يُوعِدُكُمْ بِنَارٍ تُحْرِقُ الْحِجَارَةَ ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّهُ يَنْبُتُ فِيهَا شَجَرَةٌ، وَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّارَ تُحْرِقُ الشَّجَرَةَ) تفسیر البغوی، جلد5، صفحہ 103 ۔