Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَٱسْتَفْزِزْ مَنِ ٱسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِى ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَوْلَٰدِ وَعِدْهُمْ ۚ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا ﴾
“Entice, then, with thy voice such of them as thou canst, and bear upon them with all thy horses and all thy men, and be their partner in [all sins relating to] worldly goods and children, and hold out [all manner of] promises to them: and [they will not know that] whatever Satan promises them is but meant to delude the mind.”
’’انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی راہ چلے گا‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خواہ شیطان کے راستے پر چلے یا خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر۔ اسی آزادی کے استعمال میںانسان کا اصل امتحان ہے۔ یہیں کامیاب ہو کر وہ یا تو خداکا انعام پاتاہے یا ناکام ہو کر شیطان کے انجام کا مستحق بن جاتا ہے۔ شیطان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے کہ وہ انسان کو اپنا ساتھی بنائے۔ وہ اس کے اوپر اپنی ساری کوشش استعمال کرے۔ وہ اس کے اندر گھس کر اس کے مال واولاد میں شامل ہوجائے۔ مگر شیطان کو کسی بھی درجہ میںانسان کے اوپر کوئی اختیار نہیں دیاگیاہے۔ شیطان کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ آواز اورالفاظ کے ذریعے لوگوںکو بہکائے۔ وہ بے حقیقت چیزوں کو خوش نما بنا کر انھیں عظیم حقیقت کے روپ میں پیش کرے۔ آیت میں لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ(ان پر تیرا زور نہیں چلے گا ) الفاظ بتاتے ہیں کہ شیطان امکانی طورپرانسان کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہے۔ پھر ایک ایسی دنیا جہاں شیطان اپنے تمام ’’سوار اور پیادے‘‘ کے ذریعہ انسان کے اوپر حملہ آور ہو وہاں اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان خدا کو حقیقی معنوں میں اپنا کارساز بنائے۔ جو شخص ایسا کرے گا خدا اس کو اس طرح اپنی حفاظت میں لے لے گا کہ شیطان اس کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کے باوجود عاجز ہو کر رہ جائے۔