WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 68 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ ٱلْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًۭا ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمْ وَكِيلًا ﴾

“Can you, then, ever feel sure that He will not cause a tract of dry land to swallow you up, or let loose upon you a deadly storm-wind, whereupon you would find none to be your protector?”

📝 التفسير:

خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔ سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیںہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔