Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًۭا مِّنَ ٱلرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِۦ تَبِيعًۭا ﴾
“Or can you, perchance, feel sure that He will not make you put back to sea once again, and then let loose upon you a raging tempest and cause you to drown in requital of your ingratitude - whereupon you would find none to uphold you against Us?”
خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔ سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیںہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔