https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 7 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ۚ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْءَاخِرَةِ لِيَسُۥٓـُٔوا۟ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَلِيُتَبِّرُوا۟ مَا عَلَوْا۟ تَتْبِيرًا ﴾

“[And We said:] "If you persevere in doing good, you will but be doing good to yourselves; and if you do evil, it will be [done] to yourselves." And so, when the prediction of the second [period of your iniquity] came true, [We raised new enemies against you, and allowed them] to disgrace you utterly, and to enter the Temple as [their forerunners] had entered it once before, and to destroy with utter destruction all that they had conquered.”

📝 التفسير:

حوادث کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ ان کی مدد کی۔ اس بار خدا نے شاہ ایران سائرس (خسرو) کو اٹھایا۔ اس نے 539 ق م میں بابل پر حملہ کیا، اور اس کی حکومت کو شکست دے کر اس کے اوپر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود پر یہ مہربانی کی کہ ان کو دوبارہ بابل سے ان کے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ واپس آئے اور ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کیا۔ تاہم یہود کی نئی نسل میں دوبارہ وہی بگاڑ پیدا ہونے لگا جو ان کی پچھلی نسل میں پیدا ہوا تھا۔ اس درمیان میں ان کے اندر مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان حضرت یحیٰ اور حضرت مسیح اٹھے۔ ان پیغمبروں نے یہود کی روش پر تنقیدیں کیں۔ ان کی اس بے دینی کو کھولا جو وہ دین کے نام پر کررہے تھے۔ مگر یہود اس تنقید وتجزیہ کا اثر قبول کرنے کے بجائے بگڑ گئے۔ حتی کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔ اب دوبارہ ان پر خدا کا غضب بھڑکا۔ 70 ءمیں رومی بادشاہ تیتس (Titus)اٹھا اور اس نے یروشلم پر حملہ کرکے اس کو بالکل تباہ وبرباد کرڈالا۔ یہود کی تاریخ کے یہ واقعات خود یہود کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ مگر یہود جب ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ان کو ظالموں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر قرآن واضح طورپر ان کو خود یہود کے خانہ میںڈال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی حالات ہمیشہ اخلاقی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ کوئی ظالم کسی کے اوپر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ قوم کی دینی اور اخلاقی حالت کا بگاڑ لوگوں کو یہ موقع دے دیتاہے کہ وہ اس کو اپنے ظلم و استغلال کا نشانہ بنائیں۔