WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 70 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ ۞ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىٓ ءَادَمَ وَحَمَلْنَٰهُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ وَرَزَقْنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلْنَٰهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍۢ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًۭا ﴾

“NOW, INDEED, We have conferred dignity on the children of Adam, and borne them over land and sea, and provided for them sustenance out of the good things of life, and favoured them far above most of Our creation:”

📝 التفسير:

دنیا کی تمام مخلوقات میں انسان کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ چاند اور ستارے بے شعور مخلوق ہیں جب کہ انسان شعور اور ارادہ کا مالک ہے۔ درخت پر دوسرے جس طرح چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں مگر انسان خود دوسری چیزوں کے اوپر تصرف کرتاہے۔ جانور صرف اپنے اعضاء کے ذریعہ عمل کرتے ہیں مگر انسان اوزار اور مشین بنا کر ان کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرتاہے۔ دریا کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ وہ نشیب کے رخ پر بہے مگر انسان بلندیوں پر چڑھتا ہے اور بہاؤ کے الٹے رخ پر سفر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ انسان کے لیے اس دنیا میں رزق کا شاہانہ انتظام کیا گیا ہے۔ درخت کے پتے شمسی انرجی کو کیمیائی انرجی میں تبدیل کرتے ہیں تا کہ اس سے انسان کی غذا تیار ہو۔ جانور گھاس کھاتے ہیں تاکہ اس کو انسان کے لیے دودھ اور گوشت کی شکل میں لوٹائیں۔ مکھیاں رات دن سرگرم رہتی ہیں تاکہ وہ دنیا بھر کے پھولوں کا رس چوس کر انسان کے لیے شہد کا ذخیرہ کریں، وغیرہ وغیرہ۔ اس انعام کا تقاضا تھا کہ انسان خدا کا شکر گزار بنے۔ مگر تمام مخلوقات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جو سب سے کم خدا کا شکر ادا کرتاہے۔