WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 77 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا ﴾

“[such has been Our] way with all of Our apostles whom We sent before thy time; and no change wilt thou find in Our ways.”

📝 التفسير:

جب بھی کسی گروہ میں سچے دین کی دعوت اٹھتی ہے تو صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو مذہب کے نام پر قائم شدہ گدیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا داعی ہوتاہے جو بے آمیز دین کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے وقت کے ماحول میں تنہا اور بے زور دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال دیتاہے۔ وہ داعی حق کو بالکل بے قیمت سمجھ لیتے ہیں۔ حتی کہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کو اپنی بستی سے نکال دیں۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ زمین خدا کی زمین ہے۔ یہاں کسی بندۂ خدا کے خلاف تخریب کا منصوبہ بنانا خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں مجرم ثابت کرنا ہے۔ خدا کے داعی کو کسی بستی سے نکالنا ایسا ہی ہے جیسے کسی شہر سے اس شخص کو نکال دیا جائے جس کو وہاں حکومتِ وقت کے نمائندہ کی حیثیت حاصل ہو۔ ایسے شخص کو بستی میں نہ رہنے دینے کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتاہے کہ بستی والے خود وہاں نہ رہنے پائیں۔ آدمی دوسرے کو نکالتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو نکال رہا ہوتاہے۔ آدمی دوسرے کو چھوٹا کرنا چاہتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو اس مالک حقیقی کی نظر میں چھوٹا کررہا ہوتاہے، جس کو حقیقۃً یہ اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے چھوٹا کرے اور جس کو چاہے بڑا کرے۔