Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ ٱلَّيْلِ وَقُرْءَانَ ٱلْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْءَانَ ٱلْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًۭا ﴾
“BE CONSTANT in [thy] prayer from the time when the sun has passed its zenith till the darkness of night, and [be ever mindful of its] recitation at dawn: for, behold, the recitation [of prayer] at dawn is indeed witnessed [by all that is holy].”
آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے ’’قائم رکھو نماز کو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک‘‘۔ ان الفاظ سے بظاہر یہ نکلتاہے کہ دو پہر بعد سے لے کر رات کا اندھیرا چھانے تک مسلسل نماز پڑھی جاتی رہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کی عظمت اور اس کے احسانات کا تقاضا یہی ہے کہ بندے ہر وقت اس کی عبادت کرتے رہیں۔ مگر حدیث کی تشریح نے اس عام حکم کو خاص کردیا۔ حدیث نے اس مشکل حکم کو اس طرح آسان کردیا کہ اس نے قرار دیا کہ عام اوقات میں لوگ صرف ذکر (یاد) کی حد تک خدا سے اپنا تعلق وابستہ رکھیں، اور دوپہر سے رات تک کے اوقات میں چار بار (ظہر، عصر، مغرب، عشا) اس کی عبادت کر لیا کریں۔ اسی طرح آیت کے دوسرے ٹکڑے کا لفظی ترجمہ یہ ہے— ’’اور قرآن پڑھنا فجر کا‘‘۔ اس کو بھی اگر اس کے ظاہری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ روزانہ صبح کے تمام اوقات میں قرآن پڑھا جاتا رہے۔ مگریہاں حدیث کی تشریح نے ہمارے لیے آسانی پیدا کردی۔ حدیث کے مطابق اس حکم کا متعین مطلب یہ ہے کہ صبح کے وقت بھی ایک نماز ادا کی جائے، اور اس (پانچویں)نماز کانمایاں پہلو یہ ہو کہ اس میں قرآن کی لمبی تلاوت کی جائے۔