WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 80 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِى مُدْخَلَ صِدْقٍۢ وَأَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍۢ وَٱجْعَل لِّى مِن لَّدُنكَ سُلْطَٰنًۭا نَّصِيرًۭا ﴾

“And say [in thy prayer]: "O my Sustainer! Cause me to enter [upon whatever I may do] in a manner. true and sincere, and cause me to leave [it] in a manner true and sincere, and grant me, out of Thy grace, sustaining strength!"”

📝 التفسير:

پیغمبر اسلام کو عرب کے سردار ’’مذموم‘‘ بنا دینا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو ’’محمود‘‘ کے مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ میںآپ کے لیے موافق حالات پیدا کيے جائیں اور مکہ سے نکال کر آپ کو مدینہ لے جایا جائے۔ مدینہ میں اسلام کا اقتدار قائم ہو۔ تبلیغی کوشش کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ مکہ فتح کرلیں اور بالآخر سارا عرب مسخر ہوجائے۔ اس طرح توحید کی پشت پر وہ طاقت جمع ہوجو مسلسل عمل کے ذریعہ ساری دنیا سے شرک کا غلبہ ختم کردے۔ یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کو یہاں دعا کی صورت میں پیغمبر اسلام کو تلقین کیاگیا۔