WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 82 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌۭ وَرَحْمَةٌۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارًۭا ﴾

“THUS, step by step, We bestow from on high through this Qur'an all that gives health [to the spirit] and is a grace unto those who believe [in Us], the while it only adds to the ruin of evildoers:”

📝 التفسير:

قرآن خالص سچائی کا اعلان ہے۔ خالص سچائی جب پیش کی جاتی ہے تو ان تمام لوگوں پر اس کی زد پڑتی ہے جو یا تو سچائی سے خالی ہوں یا ملاوٹی سچائی ليے ہوئے ہوں۔ اب جو لوگ حقیقت پسند ہیں ان کے سامنے جب خالص سچائی آتی ہے تو وہ سچائی کو معیار بناتے ہیں، نہ کہ اپنی ذات کو۔ وہ اپنے آپ کو سچائی پر ڈھال لیتے ہیں، نہ یہ کہ خود سچائی کو اپنے اوپر ڈھالنے لگیں۔ اس طرح ان کی سنجیدگی اور حقیقت پسندی ان کے قرآن کو ان کے لیے رحمت بنادیتی ہے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے اندر اپنی بڑائی کا احساس چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے جب بے آمیز سچائی آتی ہے تو اپنی مخصوصی نفسیات کی بنا پر ان کا ذہن الٹے رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ ’’اگر میں سچائی کو اختیار کرلوں تو میں سچا بن جاؤں گا‘‘۔ اس کے بجائے کہ وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ’’اگر میں نے سچائی کو مانا تو میں چھوٹا ہوجاؤں گا‘‘۔ وہ جانے والی چیز کی حفاظت میں رہنے والی چیز کو کھو دیتے ہیں۔ وہ اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر سچائی کو چھوٹا کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔