WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 92 من سورة سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ أَوْ تُسْقِطَ ٱلسَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِىَ بِٱللَّهِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ قَبِيلًا ﴾

“or thou cause the skies to fall down upon us in smithereens, as thou hast threatened, or [till] thou bring God and the angels face to face before us,”

📝 التفسير:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔