Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَمَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِهِۦ ۖ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًۭا وَبُكْمًۭا وَصُمًّۭا ۖ مَّأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَٰهُمْ سَعِيرًۭا ﴾
“And he whom God guides, he alone has found the right way; whereas for those whom He lets go astray thou canst never find anyone to protect them from Him: and [so, when] We shall gather them together on the Day of Resurrection, [they will lie] prone upon their faces, blind and dumb and deaf, with hell as their goal; [and] every time [the fire] abates, We shall increase for them [its] blazing flame.”
دنیا میں آدمی اپنی حیثیت مادی کے مطابق جیتا ہے، آخرت میں وہ اپنی حیثیت روحانی کے مطابق نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں راہ سے بے راہ ہوئے وہ قیامت میں اٹھیں گے تو اپنے آپ کو اندھا، بہرا، گونگا پائیں گے۔ ان کا راہ سے بے راہ ہونا اس لیے تھا کہ انھوں نے آنکھ اور کان اور زبان کو اس مقصد میں استعمال نہیں کیا جس کے لیے وہ انھیں دئے گئے تھے۔ انھو ںنے خدا کی نشانیوں کو نہیں دیکھا۔ انھوںنے خدا کے دلائل کو نہیں سنا۔ ان کی زبان حق کی حمایت میں نہیں کھلی۔ وہ آنکھ، کان اور زبان رکھتے ہوئے حق کی نسبت سے بے آنکھ، بے کان اور بے زبان ہوگئے۔ موت کے بعد جب وہ عالم حقیقی میں پہنچیں گے تو وہاں وہ اپنے آپ کو اپنی اصلی صورت میں پائیں گے، نہ کہ اس مصنوعی صورت میں جو حالت امتحان میں ہونے کی وجہ سے وقتی طورپر انھیں موجودہ دنیا میں حاصل تھی۔ ’’جب ہم ریزہ ریزہ ہوجائیں گے‘‘ کہنے والے ایک وہ ہیں جو زبانِ قال سے یہ جملہ دہرائیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو زبانِ حال سے اس کو کہیں۔ یہ دوسرے لوگ وہ ہیں جو آنکھ اور کان اور زبان کو اس کے مقصد تخلیق کے خلاف استعمال کریں اور یہ گمان رکھیں کہ ان کا یہ عمل بس اسی دنیا میں گم ہوکر رہ جائے گا، وہ آخرت میں پہنچنے والا نہیں۔