Al-Israa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ ۞ أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًۭا لَّا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى ٱلظَّٰلِمُونَ إِلَّا كُفُورًۭا ﴾
“Are they, then, not aware that God, who has created the heavens and the earth, has the power to create them anew in their own likeness, having, beyond any doubt, set a term for their resurrection? However, all [such] evildoers are unwilling to accept anything but blasphemy!”
زمین وآسمان ہمارے سامنے ایک حقیقت کے طورپر موجود ہیں۔ ہم ان کا انکار نہیں کرسکتے۔ یہ موجودگی ثابت کرتی ہے کہ یہاں کوئی زندہ ہستی ہے جو یہ طاقت رکھتی ہے کہ وہ پہلی بار تخلیق کرے، وہ نہیں سے ہے کو وجود میں لائے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی تخلیق کو ماننے کے بعد دوسری تخلیق کو ماننے میں کوئی علمی وعقلی دلیل مانع نہیں رہتی۔ اتنے کھلے ہوئے قرینہ کے باوجود جو شخص تخلیقِ ثانی کو نہ مانے وہ ظالم ہے۔ وہ ہٹ دھرمی کی زمین پر کھڑا ہوا ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی زمین پر۔