Al-Kahf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا۟ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًۭا ﴾
“Hence, [bear in mind] the Day on which He will say, "Call [now] unto those beings whom you imagined to have a share in My divinity!" - whereupon they will invoke them, but those [beings] will not respond to them: for We shall have placed between them an unbridgeable gulf.”
دنیا میں جن شخصیتوں کے بل پر آدمی حق کا انکار کرتاہے، قیامت میں وہ اس کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ آج وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں مگر جب حقائق کھلیں گے تو دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔ ایسا معلوم ہوگا گویا دونوں کے درمیان ہلاکت خیز رکاوٹ قائم ہوگئی ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر قیامت میں ان کا انجام صرف یہ ہونے والا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا پائیں اور اس سے بھاگنے کی کوئی تدبیر نہ کرسکیں۔