WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 71 من سورة سُورَةُ الكَهۡفِ

Al-Kahf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا رَكِبَا فِى ٱلسَّفِينَةِ خَرَقَهَا ۖ قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا إِمْرًۭا ﴾

“And so the two went on their way, till (they reached the seashore; and] when they disembarked from the boat [that had ferried them across], the sage made a hole in it-[whereupon Moses] exclaimed: "Hast thou made a hole in it in order to drown the people who may be [travelling] in it? Indeed, thou hast done a grievous thing!"”

📝 التفسير:

اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔ اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔