WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 21 من سورة سُورَةُ مَرۡيَمَ

Maryam • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌۭ ۖ وَلِنَجْعَلَهُۥٓ ءَايَةًۭ لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةًۭ مِّنَّا ۚ وَكَانَ أَمْرًۭا مَّقْضِيًّۭا ﴾

“[The angel] answered: "Thus it is; [but] thy Sustainer says, `This is easy for Me; and [thou shalt have a son,] so that We might make him a symbol unto mankind and an act of grace from US. And it was a thing decreed [by God]:”

📝 التفسير:

حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے دے دی گئی تھیں۔ قدیم ہیکل کا مشرقی حصہ عورتوں کے لیے خاص تھا۔ وہ اس حصہ میں ایک طرف پردہ ڈال کر معتکف ہوگئیں۔ اس کے بعد اچانک ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک تندرست وتوانا آدمی ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اس منظر سے ان کا گھبرا اٹھنا بالکل فطری تھا۔ مگر آدمی نے بتایا کہ وہ فرشتہ ہے۔ اور خدا کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ حضرت مریم کو معجزاتی طورپر ایک بچہ عطا کرے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا اس طرح معجزاتی طورپر پیدا ہونا خدا کی ایک عظیم نشانی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہود آپ کے فرستادۂ خدا ہونے پر شک نہ کریں اور آپ خدا کی طرف سے جو باتیں بتائیں ان کو مان لیں۔ مگر اتنی کھلی ہوئی نشانی کے باوجود انھو ںنے حضرت مسیح کا انکار کردیا۔