Al-Baqara • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَٱتَّبَعُوا۟ مَا تَتْلُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَٰنَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُوا۟ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحْرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌۭ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَزَوْجِهِۦ ۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا۟ لَمَنِ ٱشْتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنْ خَلَٰقٍۢ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ﴾
“and follow [instead] that which the evil ones used to practice during Solomon's reign - for it was not Solomon who denied the truth, but those evil ones denied it by teaching people sorcery -; and [they follow] that which has come down through the two angels in Babylon, Hurut and Marut-although these two never taught it to anyone without first declaring, "We are but a temptation to evil: do not, then, deny [God's] truth!" And they learn from these two how to create discord between a man and his wife; but whereas they can harm none thereby save by God's leave, they acquire a knowledge that only harms themselves and does not benefit them - although they know; indeed, that he who acquires this [knowledge] shall have no share in the good of the life to come. For, vile indeed is that [art] for which they have sold their own selves -had they but known it!”
آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ کا بگاڑ ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے— نجاتِ آخرت جس کا انحصار تمام تر عمل صالح پر رکھا گیا ہے، اس کا راز بے عملی میں تلاش کرلینا۔ اللہ کا کلام حقیقۃً عمل کی پکار ہے۔ مگر جب قوم پر زوال آتا ہے تو اس کے افراد مقدس کلام کے لکھ لینے یا زبان سے بول دینے کو ہر قسم کی برکتوں کا پُر اسرار نسخہ سمجھ لیتے ہيں۔ یہی وہ نفسیاتی زمین ہے جس کے اوپر سحر اور کہانت اور عملیات وجود میں آتے ہیں۔ چھو منتر جیسی چیزوں سے جنت حاصل کرنے والے دنیا کو بھی چھو منتر کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ بزرگوں سے عقیدت کو نجات کا ذریعہ سمجھنے والے ارواح سے تعلق قائم کرکے اپنے دنیوی مسائل حل کرنے لگتے ہیں۔ اورادوظائف کے طلسماتی اثرات پر یقین کرنے والے سیاسی چمتکار دکھا کر ملت کی تعمیر اور دین کے احیا کا منصوبہ بناتے ہیں۔ جب قوم کے افراد بے عملی اور توہم پرستی (superstition) کے راستے پر چل پڑتے ہیں تو ان کے درمیان ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جن کے لیے سحر و کہانت تجارت بن جاتی ہے، اور اپنی تجارت کو فروغ دینے کے لیے مشہور قومی بزرگوں کا نام استعمال کرنے لگتے ہیں ۔ ایسا ہر زمانے میں ہوا ہے، مثلاً یہود نے اپنے زوال کے زمانے میں سحر و کہانت کو جسٹیفائی (justify)کرنے کے لیے اس کو حضرت سلیمان کی طرف منسوب کردیا۔ انھوں نے کہنا شر وع کیا کہ سلیمان کو جنوں اور ہواؤں پر جو غیر معمولی اقتدار حاصل تھا وہ سب علم سحر کی بناپر تھا اور یہ سلیمانی علم بعض جنوں کے ذریعہ ہم کو حاصل ہوگیا ہے۔ اس طرح حضرت سلیمان کی طرف منسوب ہو کر عملیات کا فن ان کے اندر بڑے پیمانے پر پھیل گیا۔اس وقت قوم یہودکی آزمائش کے لیے بابل میں دو فرشتے بھیجے گئے جو درویشوں کے بھیس میں جادو اور کہانت سے بچاؤ کا عمل سکھاتے تھے۔ تاہم وہ کہتے رہتے تھے کہ یہ تمھارا امتحان ہے، یعنی تم اس کا صحیح استعمال کرنا۔ مگر اس انتباہ کے باوجود وہ ا س فن پر ٹوٹ پڑے۔ حتی کہ انھوں نے اس کو ناجائز مقاصد میں استعمال کرنا شروع کردیا۔