WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 253 من سورة سُورَةُ البَقَرَةِ

Al-Baqara • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ ۞ تِلْكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَٰتٍۢ ۚ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدْنَٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ وَلَٰكِنِ ٱخْتَلَفُوا۟ فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلُوا۟ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ ﴾

“Some of these apostles have We endowed more highly than others: among them were such as were spoken to by God [Himself], and some He has raised yet higher.' And We vouchsafed unto Jesus, the son of Mary, all evidence of the truth, and strengthened him with holy inspiration. And if God had so willed, they who succeeded those [apostles] would not have contended with one another after all evidence of the truth had come to them; but [as it was,] they did take to divergent views, and some of them attained to faith, while some of them came to deny the truth. Yet if God had so willed, they would not have contended with one another: but God does whatever He wills.”

📝 التفسير:

اللہ کی طرف سے کوئی پکارنے والا جب لوگوں کو پکارتا ہے تو اس کی پکار میں ایسی نشانیاں شامل ہوتی ہیںکہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس کا انکار کردیتے ہیں اور یہ انکار کرنے والے سب سے پہلے وہ لوگ ہوتے ہیںجو رسالت کو مانتے چلے آرہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ جس رسول کو مان رہے ہوتے ہیں اس کی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ اس کی افضلیت کا تصور قائم کرلیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہمارا رسول اتنا افضل ہے اور اس کو ہم مان رہے ہیں تو اب کسی اور کو ماننے کی کیا ضرورت۔ ہر پیغمبر مختلف حالات میں آتا ہے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ہر ایک کو الگ الگ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے کسی پیغمبر کو ایک فضیلت (خصوصی چیز) دی جاتی ہے اور کسی کو دوسری فضیلت۔ بعد کے دور میں پیغمبر کی یہی فضیلت اس کے امتیوں کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ اپنے نبی کو دی جانے والی فضیلت کو تائیدی فضیلت کے بجائے مطلق فضیلت کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے افضل پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اس ليے اب ہمیں کسی اور کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ حضرت موسیٰؑ کے ماننے والوں نے حضرت مسیح ؑکا انکار کیا۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا نبی اتنا افضل ہے کہ خدا براہِ راست اس سے ہم کلام ہوا۔ حضرت مسیح ؑکے ماننے والوں نے نبی آخر الزماں کا انکار کیا۔ کیوں کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ ایسی ہستی کو مان رہے ہیں جس کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ خدا نے اس کو باپ کے بغیر پیدا کیا۔ اسی طرح اللہ کے وہ بندے جو امت محمدی کی اصلاح وتجدید کے لیے اٹھے ان کابھی لوگوں نے انکار کیا۔ کیوں کہ ان کے مخاطبین کی نفسیات یہ تھی کہ ہم بزرگوں کے وارث ہیں، ہم اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں پھر ہم کو کسی اور کی کیا ضرورت۔ امتوں کے زوال کے زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ لوگ دنیا کے راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جنت بھی محفوظ رہے۔ اس وقت یہ عقیدہ ان کے لیے ایک نفسیاتی سہارا بن جاتا ہے۔ وہ اپنی مقدس شخصیتوں کی افضلیت کے تصور میں یہ تسکین پالیتے ہیں کہ دنیا میں خواہ وہ کچھ بھی کریں ان کی آخرت کبھی مشتبہ نہیں ہوگی۔ یہی غلط اعتماد ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے کی مخالفت پر جری بناتا ہے۔ اللہ کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کوئی دوسرا نظام قائم کرتا جس میں کسی کے لیے اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ مگر یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں تو اسی بات کی آزمائش ہورہی ہے کہ آدمی غیب کی حالت میں خدا کو پائے۔ انسان کی زبان سے بلند ہونے والی خدائی آواز کو پہچانے۔ ظاہری پردوں سے گزر کر سچائی کو اس کے باطنی روپ میں دیکھ لے۔