Al-Hajj • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ لِّيَشْهَدُوا۟ مَنَٰفِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ فِىٓ أَيَّامٍۢ مَّعْلُومَٰتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلْأَنْعَٰمِ ۖ فَكُلُوا۟ مِنْهَا وَأَطْعِمُوا۟ ٱلْبَآئِسَ ٱلْفَقِيرَ ﴾
“so that they might experience much that shall be of benefit to them, and that they might extol the name of God on the days appointed [for sacrifice], over whatever heads of cattle He may have provided for them [to this end]: eat, then, thereof, and feed the unfortunate poor.”
کعبہ کی تعمیر كا ابتدائی مقصد ان لوگوں کے ليے مرکز عبادت فراہم کرنا تھا، جو ’’پیدل‘‘ چل کر وہاں پہنچنے کی مسافت پر ہوں۔ مگر بالآخر اس کو سارے عالم کے ليے ایک خدا کی عبادت کا مرکز بننا تھا۔ اور یہ مقصد پوری طرح حاصل ہوا۔ یہاں پہنچ کر حاجی جو مناسک اور مراسم ادا کرتا ہے، قرآن میں اس کا مختصراً بیان ہے اور احادیث میں اس کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ’’تاکہ اپنے فائدوں کے لیے حاضر ہوں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ دین کے فوائد جن کو وہ اعتقادی طورپر مانتے ہیں ان کو یہاں عملی طورپر دیکھیں۔ حج کے ليے آدمی جن مقامات پر حاضر ہوتا ہے ان سے دین خداوندی کی عظیم تاریخ وابستہ ہے۔ اس بنا پر وہاں جانا اور ان کو دیکھنا دلوں کو پگھلانے کا سبب بنتا ہے۔ وہاں ساری دنیا کے مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ اس طرح وہاں اسلام کی بین اقوامی وسعت کھلی آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ حج کا سالانہ اجتماع مسلمانوں کے اندر عالمی سطح پر اجتماعیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ آدمی کو اس سفر سے بہت سے دینی اور دنیاوی تجربے حاصل ہوتے ہیں جو اس کے ليے زندگی کی تعمیرمیں مدد گار بنتے ہیں، وغیرہ۔