WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 34 من سورة سُورَةُ الحَجِّ

Al-Hajj • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلِكُلِّ أُمَّةٍۢ جَعَلْنَا مَنسَكًۭا لِّيَذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلْأَنْعَٰمِ ۗ فَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ فَلَهُۥٓ أَسْلِمُوا۟ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُخْبِتِينَ ﴾

“And [thus it is:] unto every community [that has ever believed in Us] have We appointed [sacrifice as] an act of worship, so that they might extol the name of God over whatever heads of cattle He may have provided for them [to this end]. And (always bear in mind:) your God is the One and Only God: hence, surrender yourselves unto Him. And give thou the glad tiding [of God’s acceptance] unto all who are humble –”

📝 التفسير:

انسان اس دنیا میں جو بھی پیداوار حاصل کرتا ہے، خواہ وہ زرعی پیدا وار ہو یا حیوانی پیداوار یا صنعتی پیداوار، ان کے بارے میں اس کے اندر دو قسم کی ممکن نفسیات پیدا ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ یہ میری اپنی کمائی ہے یا یہ کہ وہ معبودوں کی برکت کا نتیجہ ہے۔ یہ نفسیات سراسر مشرکانہ نفسیات ہے۔ دوسری نفسیات یہ ہے کہ آدمی جو کچھ حاصل کرے اس کو وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھے۔ عُشر اور زکوٰۃ اور قربانی اسی دوسرے جذبے کے خارجی اظہار کے مقرره طریقے ہیں۔ آدمی اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں نذر کرتا ہے اور اس طرح وہ اس بات کا عملی اقرار کرتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا عطیہ ہے، نہ کہ محض اس کا اپنا کسب۔ انسان کو اگر صحیح معنوں میں خدا کی معرفت حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اس کے دل کا جو حال ہوگا وہ وہی ہوگا جس کو یہاں اِخبات کہاگیا ہے۔ ایسا آدمی ہمہ تن خدا کی طرف متوجہ ہوجائے گا۔ اس پر عجز کی کیفیت طاری ہوجائے گی۔ اللہ کے تصور سے اس کا دل دہل ا ٹھے گا۔ وہ اپنی ہر چیز کوخدا کی چیز سمجھنے لگے گا، نہ کہ اپنی ذاتی چیز۔