Al-Hajj • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌۭ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَن يَخْلُقُوا۟ ذُبَابًۭا وَلَوِ ٱجْتَمَعُوا۟ لَهُۥ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ ٱلذُّبَابُ شَيْـًۭٔا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ ٱلطَّالِبُ وَٱلْمَطْلُوبُ ﴾
“O MEN! A parable is set forth [herewith]; hearken, then, to it! Behold, those beings whom you invoke instead of God cannot create [as much as] a fly, even were they to join all their forces to that end! And if a fly robs them of anything, they cannot [even] rescue it from him! Weak indeed is the seeker, and [weak] the sought!”
اللہ کے سوا کسی اور کو تقدس کا مقام دینا سراسر بے عقلی کی بات ہے۔ اس ليے مقدس مقام اس کو دیا جاتاہے جس کے اندر کوئی طاقت ہو۔ اور اس دنیا کا حال یہ ہے کہ یہاں کسی بھی انسان یا غیر انسان کو کوئی حقیقی طاقت حاصل نہیں۔ مکھی ایک انتہائی معمولی چیز ہے۔ مگر زمین و آسمان کی تمام چیزیں مل کر بھی ایک مکھی کو وجود میں نہیں لاسکتیں۔ پھر کسی غیر خدا کو مقدس سمجھنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے۔ اس قسم کے تمام عقیدے دراصل خدا کی خدائی کے کمتر اندازہ (underestimation)پر مبنی ہیں۔ لوگ خداکو مانتے ہیں مگر وہ اس کی عظمت وقدرت سے بے خبر ہیں۔ اگر وہ خدا کو ویسا مانیں جیساکہ اس کو ماننا چاہيے تو انھیں اپنے یہ تمام عقیدے مضحکہ خیر حد تک بے معنی معلوم ہوں۔ وہ خود ہی ایسے تمام عقیدوں سے دست بردار ہوجائیں۔