WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 114 من سورة سُورَةُ المُؤۡمِنُونَ

Al-Muminoon • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ قَٰلَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾

“[Whereupon] He will say: “You have spent there but a short while: had you but known [how short it was to be]!”

📝 التفسير:

عیش وہی ہے جو ابدی ہو۔ جو عیش ابدی نہ ہو وہ جب ختم ہوتا ہے تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ بس ایک لمحہ تھا جو آیا اور گزر گیا۔ دنیا کی زندگی میں آدمی اس حقیقت کو بھولا رہتاہے۔ مگر آخرت میں یہ حقیقت اس پر آخری حد تک کھل جائے گی۔ اس وقت وہ جانے گا۔ مگر اس وقت جاننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنیا میں آدمی کے سامنے حق آتاہے مگر وہ اپنے سکون کو برہم کرنا نہیں چاہتا اس ليے وہ اس کو قبول نہیںکرتا۔ وہ ملنے والے فائدے کی خاطر ملے ہوئے فائدہ کو چھوڑنے کے ليے تیار نہیںہوتا۔ یہاں کی عزت، یہاں کا آرام، یہاں کی مصلحتیں اس کو اتنی قیمتی معلوم ہوتی ہیں کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح ایسا کرے کہ ’’چیز‘‘ کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو ’’بے چیز‘‘ سے وابستہ کرلے۔ حالاں کہ جب عمر کی مہلت پوری ہوگی تو سو سال بھی ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ وہ بس ایک دن تھا جو آیا اور ختم ہوگیا۔