WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 41 من سورة سُورَةُ المُؤۡمِنُونَ

Al-Muminoon • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ بِٱلْحَقِّ فَجَعَلْنَٰهُمْ غُثَآءًۭ ۚ فَبُعْدًۭا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ﴾

“And then the blast [of Our punishment] over­took them, justly and unavoidably, and We caused them to become as the flotsam of dead leaves and the scum borne on the surface of a torrent: and so - away with those evildoing folk!”

📝 التفسير:

خدا کا پیغمبر جس چیز کے اعلان کے ليے آتا ہے وہ اس کائنات کی سب سے سنگین حقیقت ہے۔ مگر پیغمبر اس حقیقت کو صرف دلیل کے روپ میں ظاہر کرتاہے۔ وہی لوگ دراصل مومن ہیں جو اس کو دلیل کے روپ میں پہچانیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالہ کردیں۔ جب کوئی گروہ آخری طورپر یہ ثابت کردے کہ وہ حقیقت کو دلیل کے روپ میں پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر خدا حقیقت کو ’’صَیْحَه‘‘ کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ حقیقت ایک ایسی چنگھاڑ بن جاتی ہے جس کا سامنا کرنے کی طاقت کسی کو نہ ہو۔ مگر جب حقیقت صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہو جائے تو یہ اس کو بھگتنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ اس کو ماننے کا۔ حقیقت جب صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہوتی ہے تو آدمی کے حصہ میں صرف یہ رہ جاتا ہے کہ وہ ابد تک اپنی اس نادانی پر پچھتاتا رہے کہ اس نے حقیقت کو دیکھا مگر وہ اس کی طرف سے اندھا بنا رہا۔ حقیقت کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی مگر اس نے اس کو سننے کے ليے اپنے کان بند کرلئے۔