An-Noor • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلْفَٰحِشَةُ فِى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴾
“Verily, as for those who like [to hear] foul slander spread against [any of] those who have attained to faith grievous suffering awaits them in this world and in the life to come: for God knows [the full truth], whereas you know [it] not.”
اس آیت میں ’’فاحشہ‘‘ کی اشاعت سے مراد اسی چیز کی اشاعت ہے جس کو اوپر آیت نمبر 11 میں اِفک کہا گیا ہے۔ یعنی کسی کے خلاف بے بنیاد الزام وضع کرنا اور اس کو لوگوں کے اندر پھیلانا۔ بات کہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی صرف وہ بات اپنے منه سے نکالے جس کے حق میں اس کے پاس فی الواقع کوئی مضبوط دلیل ہو، جو شرعی طورپر ثابت کی جاسکے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی حقیقی بنیاد کے بغیر خود اپنے ذہن سے بات گھڑنا اور اس کو لوگوں سے بیان کرنا۔ پہلا طریقہ جائز طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز طریقہ۔ عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے مخالف کے بارے میں کوئی بات ہو تو آدمی اس کی زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ بلا بحث اس کو مان لیتا ہے اور دوسروں سے اس کو بیان کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ فعل ہے بلکہ وہ بہت بڑا جرم ہے۔ وہ دنیا میں بھی قابل سزا ہے اور آخرت میں بھی۔