https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 75 من سورة سُورَةُ الفُرۡقَانِ

Al-Furqaan • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ أُو۟لَٰٓئِكَ يُجْزَوْنَ ٱلْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا۟ وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةًۭ وَسَلَٰمًا ﴾

“[Such as] these will be rewarded for all their patient endurance [in life] with a high station [in paradise], and will be met therein with a greeting of welcome and peace,”

📝 التفسير:

جنت کے اونچے بالا خانوں میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میںاپنے آپ کو حق کی خاطر نیچا کرلیاتھا۔ انھوں نے دنیا میں تواضع اختیار کی تھی اس ليے آخرت میں ان کا خدا انھیں سرفرازی عطا فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں ادا فرمایا مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں۔ آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے(متی 5:3 )۔ وہ اوصاف جو کسی آدمی کو جنت میں لے جانے والے ہیں ان کو حاصل کرنا اس شخص کے ليے ممکن ہوتاہے جو صبر کرنے کے ليے تیار ہو۔ جنت وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں آدمی کی تمام خواہشیں کامل طورپر پوری ہوں گی۔ مگر جنت اسی صابر انسان کے حصہ میں آئے گی جس نے دنیا میں اپنی خواہشوں پر کامل روک لگائی ہو۔ جنت صبر کی قیمت ہے۔ اور جہنم اس کے ليے ہے جو دنیا کی زندگی میں صبر کی مطلوبہ قیمت دینے کے ليے تیار نہیں ہوا تھا۔