WhatsApp Book A Free Trial
https://forums.brawlminus.net/ https://zadcourses.com/blog https://export.nabtah.net/
القائمة

🕋 تفسير الآية 50 من سورة سُورَةُ النَّمۡلِ

An-Naml • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَمَكَرُوا۟ مَكْرًۭا وَمَكَرْنَا مَكْرًۭا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴾

“And so they devised an evil scheme; but We devised a subtle scheme (of Our own), and they perceived it not.”

📝 التفسير:

قوم میں نو بڑے سردار تھے۔وہ اپنے کو بڑا باقی رکھنے کے ليے حق کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ اور اس قسم کی کوشش بلا شبہ خدا کی زمین میں سب سے بڑا فساد ہے۔ ان سرداروں نے آخری مرحلہ میں حضرت صالح کو ہلاک کرنے کی سازش کی۔ مگر قبل اس کے کہ وہ اپنے خفیہ منصوبہ کے مطابق حضرت صالح کے خلاف کوئی اقدام کریں، خدا نے خود ان کو پکڑ لیا۔ وہ اپنی ساری بڑائی کے باوجود اس طرح برباد کردئے گئے کہ ان کی قدیم بستیوں میں اب صرف ان کے ٹوٹے ہوئے کھنڈر ان کی یادگار كے طور پر باقی رہ گئے ہیں۔ اس قسم کے تاریخی واقعات میں زبردست سبق چھپا ہوا ہے۔ مگر اس سبق کو وہی شخص پائے گا جو اس کو قانونِ الٰہی سے جوڑے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اس کو اسباب ِطبیعی سے جوڑیں وہ اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کرسکتے۔