WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 52 من سورة سُورَةُ النَّمۡلِ

An-Naml • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةًۢ بِمَا ظَلَمُوٓا۟ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ ﴾

“and [now] those dwellings of theirs are empty, [ruined] as an outcome of their evil deeds. In this, behold, there is a message indeed for peo­ple of [innate] knowledge –”

📝 التفسير:

قوم میں نو بڑے سردار تھے۔وہ اپنے کو بڑا باقی رکھنے کے ليے حق کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ اور اس قسم کی کوشش بلا شبہ خدا کی زمین میں سب سے بڑا فساد ہے۔ ان سرداروں نے آخری مرحلہ میں حضرت صالح کو ہلاک کرنے کی سازش کی۔ مگر قبل اس کے کہ وہ اپنے خفیہ منصوبہ کے مطابق حضرت صالح کے خلاف کوئی اقدام کریں، خدا نے خود ان کو پکڑ لیا۔ وہ اپنی ساری بڑائی کے باوجود اس طرح برباد کردئے گئے کہ ان کی قدیم بستیوں میں اب صرف ان کے ٹوٹے ہوئے کھنڈر ان کی یادگار كے طور پر باقی رہ گئے ہیں۔ اس قسم کے تاریخی واقعات میں زبردست سبق چھپا ہوا ہے۔ مگر اس سبق کو وہی شخص پائے گا جو اس کو قانونِ الٰہی سے جوڑے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اس کو اسباب ِطبیعی سے جوڑیں وہ اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کرسکتے۔