An-Naml • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ أَمَّن جَعَلَ ٱلْأَرْضَ قَرَارًۭا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنْهَٰرًۭا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ ٱلْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَءِلَٰهٌۭ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴾
“Nay - who is it that has made the earth a fitting abode [for living things], and has caused running waters [to flow] in its midst, and has set upon it mountains firm, and has placed a barrier between the two great bodies of water? Could there be any divine power besides God? Nay, most of those [who think so] do not know [what they are saying]!”
کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ اس کی عظمت کے آگے وہ الفاظ سراسر ناکافی ہوجاتے ہیں جو گمراہ کن انسان اس کی غیر خدائی توجیہہ کے ليے بولتا رہا ہے۔ خواہ وہ قدیم مشرک انسان کے بت ہوں یا جدید ملحد انسان کے وہ نظریات جو اسباب اور اتفاقات کی اصطلاحوں میں بیان كيے جاتے ہیں۔ بے شمار اجرام کو پیدا کرکے انھیں اتھاہ خلا میں متحرک کرنا، زمین کو نہایت اعلیٰ اہتمام کے ذریعہ زندگی کے موافق بنانا، پانی اور نباتات جیسی نادر چیزوں کو انتہائی افراط کے ساتھ وجود میں لانا، مسلسل حرکت کرتی ہوئی زمین پر کامل سکون کے حالات پیدا کرنا، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعہ زمین کو جائے رہائش بنانا، پانی کے سطحی تناؤ (surface tension) کے قانون کے ذریعہ کھاری پانی اور میٹھے پانی کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا، یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات اس سے زیادہ عظیم ہیں کہ کوئی بت انھیں وقوع میںلائے یا کوئی اندھا طبیعی قانون ان کو وجود دے سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک اللہ کے سوا دوسری بنیادوں پر کائنات کی توجیہ کرنا جھوٹی توجیہ کو توجیہ کے قائم مقام بناناہے۔ یہ انحراف ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی توجیہ۔