An-Naml • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِى ٱلنَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴾
“But when he came close to it, a call was sounded: “Blessed are all who are within [reach of] this fire, and all who are near it! And limitless in His glory is God, the Sustainer of all the worlds!””
قبطی کی موت کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ مدین کا علاقہ بحراحمر کی اس شاخ کے مشرقی ساحل پر تھا جس کو خلیج عقبہ کہاجاتاہے۔ حضرت موسیٰ نے یہاں تقریباً آٹھ سال گزارے اس کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر واپس جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ اس سفر میں وہ بحر احمر کی دونوں شاخوں کے درمیان اس پہاڑ کے کنارے پہنچے جس کا قدیم نام طور تھا اور اب اس کو جبل موسیٰ (Gebel Musa) کہاجاتا ہے۔ یہ غالباً سردیوں کی رات تھی۔ حضرت موسیٰ کو دور پہاڑ پر ایک آگ سی چیز نظر آئی۔ وہ اس کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خدا کی تجلی تھی، نہ کہ کوئی انسانی آگ۔ پہاڑ کے اوپر جہاں حضرت موسیٰ نے روشنی دیکھی تھی وہاں آج بھی ایک قدیم درخت موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ درخت ہے جس کے اوپر سے حضرت موسیٰ کو خدا کی آواز سنائی دی تھی۔ یہاں بعد کو عیسائی حضرات نے گرجا اور خانقاہ تعمیر کردیا جو آج بھی لوگوں کے ليے زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔