Al-Qasas • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَدَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍۢ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِۦ ۖ فَٱسْتَغَٰثَهُ ٱلَّذِى مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِى مِنْ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۖ إِنَّهُۥ عَدُوٌّۭ مُّضِلٌّۭ مُّبِينٌۭ ﴾
“And [one day] he entered the city at a time when [most of] its people were [resting in their houses,] unaware of what was going on [in the streets]; and there he encountered two men fighting with one another - one of his own people, and the other of his enemies. And the one who belonged to his own people cried out to him for help against him who was of his enemies - whereupon Moses struck him down with his fist, and [thus] brought about his end. [But then] he said [to himself]: “This is of Satan’s doing! Verily, he is an open foe, leading [man] astray!””
پیغمبری ملنے سے پہلے کا واقعہ ہے، حضرت موسیٰ مصر کے دار السلطنت میں تھے۔ ایک روز انھوںنے دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کو اپنا ہم قوم سمجھ کر پکارا کہ ظالم قبطی کے مقابلہ میں میری مدد کیجيے۔ حضرت موسیٰ نے دونوں کو الگ کرنا چاہا تو قبطی آپ سے الجھ گیا۔ آپ نے دفاع کے طورپر اس کو ایک گھونسا مارا۔ وہ اتفاقاً ایسی جگہ لگا کہ قبطی مر گیا۔ قبطی قوم اس وقت بنی اسرائیل پر سخت زیادتیاں کررہی تھیں۔ ایسی حالت میں حضرت موسیٰ اگر اس واقعہ کو قومی نقطۂ نظر سے دیکھتے تو وہ اس کو مجاہدانہ کارنامہ قرار دے کر فخر کرتے۔ مگر انھیں قبطی کی موت پر شدید افسوس ہوا۔ وہ فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ سے معافی مانگنے لگے۔ ’’اب میں کسی مجرم کی حمایت نہیں کروں گا‘‘— اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میں بلا تحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا۔ ایک شخص کا بظاہر مظلوم فرقہ سے تعلق رکھنا یا کسی کو ظالم بتا کر اس کے خلاف مدد مانگنا یہ ثابت کرنے کے ليے کافی نہیں کہ فی الواقع بھی دوسرا شخص ظالم ہے، اور فریاد کرنے والا مظلوم۔ اس ليے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اصل معاملہ کی تحقیق کی جائے اور صرف اس وقت کسی کی حمایت کی جائے جب کہ غیر جانب دارانہ تحقیق میں اس کا مظلوم ہونا ثابت ہوجائے۔