WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 23 من سورة سُورَةُ القَصَصِ

Al-Qasas • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌۭ كَبِيرٌۭ ﴾

“NOW WHEN he arrived at the wells of Madyan, he found there a large group of men who were watering [their herds and flocks]; and at some distance from them he came upon two women who were keeping back their flock. He asked [them]: “What is the matter with you?” They answered: “We cannot water [our animals] until the herdsmen drive [theirs] home - for [we are weak and] our father is a very old man.””

📝 التفسير:

حضرت موسیٰ کا یہ سفر گویا نامعلوم منزل کی طرف سفر تھا۔ ایسے حالات میں مومن کے دل کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ پوری طرح آپ کے اوپر طاری تھی۔ آپ دعاؤں کے سایہ میں اپنا قدم آگے بڑھا رہے تھے۔ تقریباً دس دن کے سفر کے بعد مدین پہنچے۔ گمان غالب ہے کہ آپ بھوکے بھی ہوں گے۔ حضرت موسیٰ نے کمزوروں کی حمایت کے جذبہ کے تحت مدین کی دونوں لڑکیوں کی مدد کی۔ یہ واقعہ ان کے ليے لڑکیوں کے والد تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ یہ بزرگ مدیان بن ابراہیم کی اولاد سے تھے اور حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم کی اولاد سے۔ اس اعتبار سے دونوں میں نسلی قربت بھی تھی۔ اس وقت حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ دعا نکلی رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ ایسے وقت مومن کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے معاملہ کو تمام تر اللہ پر ڈال دیتاہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ بندہ کو جو کچھ ملتا ہے خدا سے ملتا ہے، اور خیر وہی ہے جو اس کو خدا کی طرف سے ملے۔