https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 59 من سورة سُورَةُ القَصَصِ

Al-Qasas • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِىٓ أُمِّهَا رَسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِكِى ٱلْقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَٰلِمُونَ ﴾

“Yet, withal, thy Sustainer would never destroy a community without having [first] raised in its midst an apostle who would convey unto them Our mes­sages; and never would We destroy a community unless its people are wont to do wrong [to one another].”

📝 التفسير:

دنیا میں کسی کو مادی استحکام حاصل ہو تو وہ بڑائی کے احساس میںمبتلا ہوجاتا ہے۔حالاں کہ تاریخ مسلسل یہ سبق دے رہی ہے کہ کسی بھی شخص یا قوم کا مادی استحکام مستقل نہیں۔ جب بھی کسی قوم نے حق کو نظر انداز کیا، ساری عظمت کے باوجود وہ ہلاک کردی گئی۔ عرب کے جغرافیہ میںاسلام سے پہلے مختلف قومیں ابھریں۔ مثلاً عاد، ثمود، سبا، مدین، قوم لوط وغیرہ۔ ہر ایک کبر میں مبتلا ہوگئی۔ مگر ہر ایک کا کبر زمانہ نے باطل کر دیا۔ اور بالآخر ان کی حیثیت گزری ہوئی کہانی کے سوا اور کچھ نہ رہی۔ ان قوموں کے کھنڈر چاروں طرح پھیلے ہوئے انسانی عظمت کی نفی کررہے تھے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام کے زمانہ میں جن لوگوں کو بڑائی حاصل تھی انھوںنے پیغمبر کو اس طرح جھٹلادیا جیسے کہ ماضی کے واقعات میں ان کے حال کے ليے کوئی نصیحت نہیں۔