Al-Ankaboot • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبِعُوا۟ سَبِيلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَٰيَٰكُمْ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنْ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَىْءٍ ۖ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ ﴾
“And [He is aware, too, that] they who are bent on denying the truth speak [thus, as it were,] to those who have attained to faith: “Follow our way [of life], and we shall indeed take your sins upon ourselves!” But never could they take upon themselves aught of the sins of those [whom they would thus mislead]: behold, they are liars indeed!”
افترا (جھوٹ گھڑنا) یہ ہے کہ آدمی خود ایک بات کہے اور اس کو خدا کی طرف منسوب کردے۔ ہر قسم کی بدعات اور غلط تعبیرات اس میں داخل ہیں۔ اس افترا کی ایک صورت یہ ہے کہ انکار کرنے والے بڑے اپنے چھوٹوں سے یہ کہیں کہ تم ہمارے راستہ پر چلتے رہو، اگر خدا کے یہاں اس پر پوچھا گیا تو ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ خدا نے کسی کو اس قسم کا حق نہیں دیا ہے۔ اس ليے ایسی بات کہنا خداپر جھوٹ باندھنا ہے۔ آدمی بہت سی باتیں صرف کہنے کےلیے کہہ دیتاہے۔ اگروہ اس کے انجام کو دیکھ لے تو وہ کبھی ایسے الفاظ اپنے منہ سے نہ نکالے۔ چنانچہ یہ لوگ جب قیامت کی ہولناکی کو دیکھیں گے تو اس وقت ان کا حال اس سے بالکل مختلف ہوگاجو آج کی دنیا میں ان کا نظر آرہا ہے۔